شہر کے مصروف چوراہے پر آج صبح اس وقت ایک غیر معمولی ہنگامہ برپا ہوا جب گوپی بہو نے ٹمٹماتی ہوئی خراب ٹریفک لائٹ کو ناراض دیوتا کا غیبی اشارہ سمجھ کر پورے ایمان اور پچھتاوے کے ساتھ اپنے جرائم کی جذباتی اعترافات کی تفصیلی مناجات روتے ہوۓ شروع کر دی۔
عینی شاہدین کے مطابق گوپی بہو نے اپنے شاپنگ بیگز پھینک کر نہ صرف ہاتھ جوڑ لیے بلکہ اونچی آواز میں اس قسم کے گناہوں کا اقبال بھی کیا جن کا کوکیلا کو پتا تک نہ تھا ، مثلاً دودھ کو ضرورت سے زیادہ ابالا ، کپڑوں پر استری پوری لگن سے نہ کی اور الماری کے اوپر والے حصّے کو “سچے دل” سے نہ سویکار کیا اور نہ صاف۔
حالات اُس وقت مزید رقّت انگیز اور کشیدہ ہو گئے جب گوپی بہو نے پاس کے ریڑھی والے سے تھیلی، تھالی، دیا اور کچھ پرساد (چار مینٹوس اور آدھی پگھلی ہوئی ڈیری ملک) خرید کر آرتی شروع کر دی۔ پولیس کے سمجھانے پر اُس نے اپنی مجبوری بیان کی کہ جب تک “ایشور کا سگنل” اُسے اجازت نہ دے، وہ پیچھے نہیں ہٹے ورنہ کوکیلا مر جائیگی۔


